اصل سوال یہ نہیں کہ اردو کتنی پرانی ہے۔ اصل سوال یہ ہے: کیا یہ زندہ ہے؟ کیا آج کا نوجوان اسے پڑھتا ہے، اس میں لکھتا ہے، اس میں سوچتا ہے؟ اردو ورثہ اسی ایک سوال کے جواب میں بنایا گیا۔
ہم نے یہ پلیٹ فارم تین چیزوں کے گرد بنایا ہے — زبان، پڑھنے والا، اور لکھنے والا۔ ان تینوں میں سے کوئی ایک بھی کمزور ہو تو باقی دونوں بے معنی ہو جاتے ہیں۔
اردو
اردو صرف ایک زبان نہیں — ایک امانت ہے جو ہمیں اپنے بزرگوں سے ملی۔ اپنے کروڑوں بولنے اور سمجھنے والوں کے باوجود یہ ڈیجیٹل دنیا میں پیچھے ہے۔ یہ کمی زبان کی صلاحیت کی نہیں، موقع اور جگہ کی ہے۔
قارئین
پڑھنے والا ہمارے لیے اعداد و شمار کی ایک سطر نہیں۔ اسی لیے ہم معیار کو مقدار پر ترجیح دیتے ہیں — کم مگر بہتر، جلد بازی میں زیادہ کے بجائے۔ صفحہ تیز کھلے، تحریر آرام سے پڑھی جائے، اور قاری کو یہ نہ سوچنا پڑے کہ اب کہاں جانا ہے۔
لکھاری
نئے لکھنے والوں کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ قابلیت نہیں، دروازہ ہے۔ اردو ورثہ وہ دروازہ کھولنے کی کوشش ہے: ہر تحریر دیانتداری سے پڑھی جاتی ہے، اور ہر لکھاری کو واضح جواب دیا جاتا ہے — منظوری ہو یا انکار، وجہ کے ساتھ۔
ہم کیا نہیں کریں گے
ہم جھوٹے اعداد و شمار شائع نہیں کریں گے۔ ہم آمدن کے ایسے وعدے نہیں کریں گے جو پورے نہ ہو سکیں۔ ہم قاری کی توجہ بیچنے کے لیے صفحے کو اشتہاروں سے نہیں بھریں گے۔ اور ہم کسی تحریر کو صرف اس لیے شائع نہیں کریں گے کہ اس پر کلک زیادہ آئیں گے۔
یہ ابھی شروعات ہے
اردو ورثہ مکمل نہیں ہے، اور ہم اسے مکمل ظاہر بھی نہیں کریں گے۔ جو کچھ اس صفحے پر لکھا ہے وہ ہمارا ارادہ اور طریقۂ کار ہے — کوئی دعویٰ نہیں۔ باقی کام تحریروں سے ہوگا، اعلانات سے نہیں۔